شاہین
کیا مین نے اُس خاکِ دان سے کنارا جہان رزق کا نام ہے آب و دان علامہ فرماتے ہے کہ مین اس خاک دانے سے اوپر اٹھ گیا ہون یعنی کنارا کیا جہان صرف کھانا پینا ہی زندگی کا مقصد دگیبنچکا ہین یعنی علامہ جوانون کو پیغام دے رہین ہین کہ زندگی صِرف کھانے پینے مین خرچ نہ کرو بلکہ کسی اعلٰی مقصد کے لئے خرچ کرو بیابان کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو۔ ازل سے ہین فطرت میری راہبانہ شاہین کہتا ہے کہ مجھے شہروں کے نصبت تنہائی زیادہ پسند ہے یعنی تنہائی اختیار کر کے اللّہ کی عبادت کرنا نہ بادِ بہاری نہ کلچین نہ بلبل نہ بیمارئ نغمہ عاشقانہ علامہ فرماتے ہے کہ دنیا کی محبت دل سے نکال دو ورنہ اگر کوئی دنیاوی نقصان ہوجائے تو اس کے غم مین اِدھر اُدھر فِرو گے خیابانیون سے ہین پرہیز لازم ادائین ہین ان کی بہت دلبرانہ علامہ فرماتے ہین کہ دنیا دارون سے پرہیز کرو جو صرف دنیا کی باتین کرتے ہین اگرچہ ان کی باتین بڑی دلفریب ہین جس طرح حدیث مین آیا ہین کہ دنیا کی محبت برائیون کی جڑ ہین ہوائین بیابان سے ہوتی ہین کاری جوان مرد کی ضربت غازیانہ علامہ فرماتے ...